Thursday, January 12, 2017


Crime & Law in Circle Bakote
2016

سرکل بکوٹ میں جرم و سزا ۔۔۔۔اور ۔۔۔۔ پولیس کی کارکردگی

**************
تحقیق و تحریر: محمد عبیداللہ علوی 
**************
تازہ ترین
**************
روزنامہ محاسب، روزنامہ نوائے ہزارہ ایبٹ آباد
دس اپریل، 2017
 سال 2016 میں سرکل بکوٹ میں جرائم کا پہلا واقعہ کوہالہ پولیس چوکی کے پاس ہوا جہا ں ۔۔۔ دریا کے ارار پار باقاعدہ فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور اس میں شرقی کوہالہ کا ایک صحافی بھی زخمی بھی ہوا، اس کے جواب میں ٹرانسپورٹروں نے احتجاج کے طور پر مظفر آباد، باغ اور راولپنڈی اسلام آباد کے درمیان ٹرانسپورٹ کا سلسلہ بند کر دیا، بعد ازاں کے پی کے اور آزاد کشمیر کی حکومتوں میں مزاکرات کے بعد حالات نارمل ہوئے، اس سال کنیر پل اور مولیا آبشار پر بھی ایک دو ناخوشگوار واقعات پیش آئے، بیروٹ میں ایک منشیات فروش سے تین کلو چرس پکڑی گئی، سابق ناظم بیروٹ آفاق عباسی اور وی سی بیروٹ کلاں کے حاضر سروس چیئرمین ندیم عباسی نے ۔۔۔۔ منشیات فروش کو اس کی کمائی اور مال سمیت ۔۔۔۔ اس وقت کے ایس ایچ او ۔۔۔۔ پرویز خان ۔۔۔۔ کے حوالے کیا جس نے حق نمک ادا کرتے ہوئے سرکل بکوٹ کے اس موت کے سوداگر کو محفوظ مقام کی طرف روانہ کر دیا، اس وقت یہ شکایت بھی سنی گئی کہ ۔۔۔۔ بکوٹ پولیس کی سرپرستی میں ۔۔۔۔ کنیر پل پر جام سمیت ساقی کی بھی سہولیات دستیاب ہیں، کوہالہ چوکی کے اہلکار یہاں پھرتیاں دکھاتے مگر خود بھی چند گھونٹ حلق سے اتار کر پھر اس دھندے کا لائسنس رینیو کر کے چلتے بنتے ۔۔۔۔ پھر ۔۔۔۔ قدرت کو اہلیان سرکل بکوٹ پر ترس آ گیا، بکوٹ تھانے کو ایک روشن خیال اور کریمینالوجی کا ایکسپرٹ ۔۔۔ سٹیشن ہائوس آفیسر سردار واجد خان ۔۔۔۔ ملا، کوہالہ میں ہونے والی فائرنگ نے اسے ہلا کر رکھ دیا اور اس نے نئی حکمت عملی ترتیب دے کر نیشنل ایکشن بنا کر اہلکاروں کو بھی ۔۔۔۔ انسان کا بچہ بنایا، مجرموں کو پھر سرکل بکوٹ میں ٹھکانہ ملنا محال ہو گیا ۔۔۔۔ کمائی چوپٹ ہوئی تو ۔۔۔۔ سردار واجد خان کو بھی اٹھا لیا گیا یہ واحد پولیس آفیسر تھا جسے قدرت نے سرکل بکوٹ میں اتنی عزت دی کہ کوئی آفیسر اس کی صرف آرزو ہی کر سکتا ہے ۔۔۔۔ موجودہ ایس ایچ او سے قبل کے گلزار خان نے ۔۔۔۔ اس کمائی کا خسارہ پورا کرنے کی کوشش تو کی ۔۔۔۔ مگر 2016 کے ٹھنڈے ٹھار اداس دسمبر کے آخری ہفتے میں اس کا بھی بلاوہ آ گیا اور اب ۔۔۔ تھانہ بکوٹ میں کوئی نئی سرکار آئی ہے اس کو کوہالہ پولیس چوکی میں ۔۔۔۔ سرکل لورہ کا ایک اے ایس آئی ۔۔۔۔ ارشد عباسی بھی ملا ہے جس نے بیروٹ کے دو نوجوانوں پر ہاتھ رکھا ، رات بھر ۔۔۔ چھترولی تفتیش یا تفتیشی چھترول اور لترول ۔۔۔۔ جاری رکھی تیسرے روز اسے وی سی بیروٹ کے آفس میں اپنے اختیارات سے تجاوز کے جرم میں معافی بھی مانگنی پڑی ۔۔۔۔ اسی ہفتے سرکل بکوٹ میں ایک ستر سالہ بابے کو بھی قتل کر دیا گیا مگر ۔۔۔۔ قاتل ابھی تک ۔۔۔۔ بکوٹ پولیس کے شیر جوانوں کی دسترس سے باہر ہیں ۔۔۔ باسیاں سے مضاربہ سیکنڈل کے مرکزی کردار اور کروڑوں روپے پر ہاتھ صاف کرنے والے بابر عباسی بھی دس سال گزرنے کے باوجود بکوٹ پولیس کیلئے ابھی تک اجنبی ہیں۔ ماشااللہ
سرکل بکوٹ میں ۔۔۔۔ کوئی لڑکی لڑکا ہو یا شادی شدہ خاتون ۔۔۔۔ ان کے پاس ایک نہایت ہی مہلک ہتھیار ۔۔۔۔ دریائے جہلم میں کودنے کی دھمکی ہوتی ہے، یہ دھمکی ۔۔۔۔ برسوں سے التوا کا شکار مسائل کو شوہراور والدین سے لمحوں میں حل کروا دیتی ہے ۔۔۔۔ اس کے باوجود سال2016 میں چار خواتین نے اس دھمکی پر عملدر آمد بھی کر دیا، ان میں سے ایک کنیر پل سے دریائے جہلم میں کود گئی، منڈی بہائوالدین کے خاندان کی بچی پھسل کر موجوں سے ہمکنار ہوئی جبکہ اس کا والد اسے بچانے کیلئے کودا اور جان دے دی، ایک اور خاتون نےجان دینے کیلئے اولڈ کوہالہ پل کو چنا اور عملدرآمد کر دیا، ایک لاش مظفر آباد سے آئی جسے کوہالہ پولیس نے نکال کر دفن کیا۔
2016 ۔۔۔۔ کا سال بیروٹ خورد کی ایک نو بیاہتا خاتون سمیعہ اور گلیات کی ایک سٹوڈنٹ عنبرین کو بھی کھا گیا ۔۔۔ مگر ۔۔۔۔ جس قتل یا خود کشی کے واقعہ نے زلزلہ کی طرح ۔۔۔۔ یہاں کی دھرتی اور یہاں کے رہنے والوں کو ۔۔۔۔ اندر اور باہر سے ہلا کر رکھ دیا وہ ۔۔۔۔ جرنیلوں اور وفاقی حاضر سروس بااختیار نون لیگی وزرا کی یو سی دیول کی صفہ اکیڈمی کی ٹیچر ۔۔۔۔ ماریہ عباسی ۔۔۔۔ کی وہ دردناک اور المناک موت تھی جسے سنتے ہی ۔۔۔۔ کوہسار کے پتھر بھی رو پڑے ۔۔۔۔ پہلے قتل کے الزام میں اوسیا کے ریٹائرڈ ٹیچر شوکت عباسی، پھر اس کے بیٹے ہارون عباسی اور کچھ دیگر کو گرفتار کیا گیا مگر پنجاب پولیس کی انکوائری نے ماسٹر شوکت اس کے بیٹے ہارون اور دیگر کو بے گناہ ثابت کر دیا ۔۔۔ اس قتل یا خود کشی کی پوری سٹوری میں ۔۔۔۔ کوہسار کے جس کردار نے ایک بے وفا کیلئے وفائوں کی انتہا کر دی وہ ۔۔۔۔ ہارون کی اعلیٰ تعلیم یافتہ اہلیہ شمائلہ بی بی ۔۔۔ تھی، اس نے عوام علاقہ، اس ہاٹ انٹر نیشنل سٹوری کے طلبگار نشریاتی اینکرز اور پرنٹ میڈیا کے سامنے حارحانہ انداز میں عقلی دلائل سے اپنے شوہر اور سسر کا دفاع کیا ۔۔۔ اگر یہ شمائلہ بی بی نہ ہوتی تو شاید ۔۔۔ ماسٹر شوکت اور اس کا بیٹا ہارون بھی اس وقت ماریہ عباسی کے پاس پہنچ چکے ہوتے، اس واقعہ نے اہلیان دیول اور اوسیا کو دو متوازی کناروں پر لا کھڑا کر دیا، چیئر مین اعجاز عباسی نے اپنی تمام صلاحیتیں مجتمع کر کے اپنی یو سی میں ہونے والے واقعہ کی تفصیلات حاصل کر کے مصالحت کی کوششیں کیں، اس واقعہ نے ۔۔۔ یو سی بیروٹ ۔۔۔۔ کے بعد یو سی دیول کو بھی لرزایا کہ ۔۔۔ تمام خرابیوں کی جڑ موبائل اور کسی مرد کے بغیر خواتین کا بازاروں میں گھومنا پھرنا ہے ۔۔۔ اور یہ کہ ۔۔۔۔ جدید تعلیم کے ادارے وہ کچھ نہیں ڈیلیور کر رہے جس کی اہلیان کوہسار کو ضرورت ہے ۔۔۔۔ یہ بات بھی سامنے آئی کہ اہلیان اوسیا بہر حال اساتذہ ہیں اور اہلیان دیول پر اپنی علمی فضیلت کی بدولت فائق ہیں (2016 میں بیروٹ خورد کی سمیعہ بی بی اور گلیات کی سٹوڈنٹ عنبرین کو بھی جلایا گیا ۔۔۔
سال 2016 گلیات، یو سی بیروٹ اور پنجاب کی ملحقہ آخری شمالی یونین کونسل دیول میں خواتین کیلئے اچھا نہیں رہا ۔۔۔۔ دیول کے غریب ماں باپ کی سب سے بڑی بیٹی ماریہ عباسی ۔۔۔۔ جن تاریک راہوں میں ماری گئیں ۔۔۔۔ ایسی ہی تاریک راہوں کے تاریک قاتلوں نے بیروٹ خورد کی ایک نوخیز اور نوبیاہتا یتیم دلہن ۔۔۔۔ سمیعہ بی بی ۔۔۔۔ کو بھی پھانسی دے کر خود کشی کا ڈھونگ رچایا ۔۔۔۔ مگر ۔۔۔۔ جب قاتلوں کا پیچھا کرنے والا کوئی نہ ہو، پیچھا کر کے بھی وارثوں کو حاصل وصول کچھ نظر نہ آئے ۔۔۔۔ تو قلم چاہے کتنا لکھے وہاں سفید ریش ناخواندہ معمر جرگوئیوں کے فیصلوں کو نہ ٓصرف قبولا جاتا ہے بلکہ ۔۔۔۔ دیت کے چند سکے ۔۔۔ شکریہ کے ساتھ وسول بھی کئے جاتے ہیں ۔۔۔۔ بیچاری سمیعہ کا لہو بھی اسی طرح گلیات کے ایک جرگہ نے نیلام کیا اور وارث ۔۔۔۔ 18 لاکھ ہاتھوں میں لے کر شاداں و فرحاں گھروں کو لوٹ گئے ۔۔۔۔ سمیعہ کی روح تڑپی تو ہو گی جنت الفردوس میں، مگر اس سے کیا فرق پڑتا ہے ۔۔۔۔؟
عمبرین بی بی گلیات کے حسن فطرت کے سحر میں ڈوبے ایک گائوں مکول کے ہی بوڑھے اور غریب والدین کی بیٹی تھی ۔۔۔۔ قصور اتنا بڑا نہیں تھا کہ اس سے حق زندگی چھین لیا جاتا ۔۔۔۔ مگر ۔۔۔۔ خونخوار سرداروں کے ایک ان پڑھ بوڑھے جرگہ نے سب قانونی دیواروں کو روند دیا ۔۔۔۔ اس کی ماں کو ایسی دھمکی ملی کہ ۔۔۔۔ عمبرین کو دنیا میں لانے والی ۔۔۔۔ اس کی ماں کو بھی اس کے دردناک انجام پر زبان بند رکھنا پڑی، اس نو عمر آٹھویں جماعت کی طالبہ عنبرین کو پہلے کسی چیڑھ کے ساتھ لٹکایا گیا اور پھر اسے سوزوکی کی پچھلی سیٹ سے باندھ کر آگ لگا دی گئی ۔۔۔۔۔ جو چپ رہے گی زبان خنجر، لہو پکارے گا آستیں کا ۔۔۔۔ اب سیشن کورٹ ایبٹ آباد میں ملزم کو مجرم اور مجرم کو ملزم ثابت کرنے والے دونوں وکیل ایڑھی چوٹی کا زور لگانے میں مصروف ہیں ۔۔۔۔ اہم بات یہ ہے کہ 2016 میں موت کے گھاٹ اترنے والی ماریہ، سمیعہ اور عمبرین کے ملزمان کی تعداد ایک سے زیادہ ہے اور اس کے ساتھ بہت سی دیکھی ان دیکھی کہانیاں بھی جڑی ہوئی ہیں اور پس منظر میں بھی پہت کچھ رواں دواں ہے ۔۔۔۔ ایک مقتول لڑکے سمیت ان دونوں لڑکیوں کا تعلق کوہ موشپوری کے مغرب کی جنت الفردوس کے تھانہ ڈونگا گلی سے ہے جہاں سال میں دوچار قتل تو معمول کی بات ہے۔
اسی سال گلیات میں ہی ایک تیل فروش اور ایک دوسرے دکاندار نوجوان کو بھی ہلاک کر دیا گیا، ان نوجوانوں کے قتل کا پیچھا کرنے کیلئے مری ایبٹ آباد روڈ بلاک کی گئی، ضلعی انتظامیہ سے قاتلوں کی گرفتاری کا وعدہ لیا گیا اور ایک ہفتے کے اندر دونوں کے قاتل ڈونگا گلی پولیس نے گرفتار کر کے عدالت میں پیش کر دئے جو اب سلاخوں کے پیچھے ہیں۔
اس سال حادثات کی تعداد بھی کافی تشویشناک رہی، سال کے اوائل میں ٹھنڈیانی کے برف زاروں میں ایک جیپ نشیب کی طرف لڑھک گئی تاہم جانی نقصان نہیں ہوا، بیروٹ کلاں میں چنجل کے مقام پر بھی ایک جیپ نیچے جا لگی، ڈرائیور کو معمولی چوٹیں آئیں، گھوڑا گلی میں بیروٹ کا ایک ٹرک ایک دکان اور ایک کیری ڈبے کو کچلتا ہوا سینکڑوں فٹ نیچے جا گرا تاہم خوش قسمتی سے ڈرائیور نے چھلانگ لگا کر جان بچائی، سال کے آخری ماہ دسمبر کے آخری دنوں کی ایک صبح یو سی بیروٹ کی وی سی باسیاں کے دو غیر شادی شدہ نوجوان ۔۔۔۔ توصیف کبیر اور مسلم اتفاق ۔۔۔ دھیر کوٹ آزاد کشمیر میں اپنا ہی ٹرک چلاتے ہوئے حادثہ میں جاں بحق ہو گئے، دونوں کی نماز جنازہ اکٹھی ادا کی گئی اور ایک دوسرے کے پہلو میں ایک ہی قبرستان میں سپرد خاک کئے گئے ۔۔۔۔ ان کی اس حادثاتی موت پر رونے والی نوحہ گر خواتین نے ۔۔۔۔ ہزاروں لوگوں کو بھی رلا دیا۔۔۔۔۔ اس سال برسوں سے ہائر سیکندری سکول بیروٹ کی زخموں سے چور نوحہ خواں عمارت کے ساتھ ۔۔۔۔ راقم کے پڑوسی مرحوم نثار عباسی کی اولاد کی بے پرواہی کا شکار پہاڑوں کی شہزادی ۔۔۔۔ 3725بس ۔۔۔۔ کو ایک بار پھر دلہن بنا کر اپر دیول کوہالہ روڈ پر چلا دیا گیا، آج 10جنوری 2017 کو بیروٹ اور راولپنڈی کے اڈہ منیجروں نے بیروٹ روٹ پر چلنے والی گاڑیوں کا شیڈول جاری کیا ہے جس میں 3725 بس کا پرانا ٹائم بحال کیا گیا ہے جس کے مطابق ۔۔۔۔ یہ بس صبح سات بجکر بیس منٹ پر اکھوڑاں بازار بیروٹ سے پنڈی روانہ ہو گی، مجموعی طور پر اس روٹ پر 15 بسیں اور کوسٹرز چلیں گی۔ دریں اثنا 2016 کے رمضان المبارک میں بیروٹ خورد کی 7 ویگنوں پر مشتمل ویگن سروس نے اپنی تاریخ کی پہلی ہڑتال بھی کی، لوگوں کے عدم تعاون کے باعث ان ہڑتالی ٹرانسپورٹروں کو تین دن کے بعد خود ہی ختم کرنا پڑی ۔۔۔۔ بیروٹ خورد کی شاہرائیں اور موٹر ویز پر دل خان مرحوم کی کھٹارہ اور موت کے کھٹلے جیپوں کے علاوہ کسی دوسری گاڑی کا گزر نہ ہو سکا، اس سال تمام تعمیراتی ٹھیکے نون لیگ کے فیورٹ فضل رحیم عباسی کے بجائے وی بیروٹ کلاں کے وائس چیئرمین عتیق عباسی کو دئیے گئے جس کی وجہ سے ۔۔۔۔ فضل رحیم عباسی کے اپنے رانمائوں کے بڑے بڑے مبارکبادی اشتہارات پورا سال کسی میڈیا میں نظر نہیں آئے۔
اس سال سوار گلی بوئی روڈ پر واقع لوگوں نے کافی فکری، تہذیبی اور مادی ترقی کی، بیروٹ خورد کی وی سیز میں فوٹو کاپی مشینوں، فوٹو سٹویوز، سٹیشنری کی دکانوں اور دیگر اشیائے صرف اور روزانہ تازہ سبزیوں کی مارکیٹیں کھلنے سے بیروٹ کلاں کی جانب آنے والے تمام راستے ویران ہو گئے ہیں، ممبر تحصیل کونسل قاضی سجاول خان اور چیئرمین وی سی کہو غربی جان محمد عباسی نے اس علاقے کے لوگوں کے بلند سے بلند تر ہوتے معیار زندگی اور بوریوں میں ہونے والی آمدنی کو دیکھتے ہوئے ۔۔۔۔ کہو شرقی کے لفٹ آپریٹر کو بھی مقناطیس لگا کر لوگوں کی جیبوں سے پیسے نکالنے کا لائسنس دے رکھا ہے جس پر اہلیان کہو غربی سراپا احتجاج ہیں مگر دونوں عوامی رہنمائوں کے کانوں پر جوئوں نے بھی رینگنے سے انکار کر دیا ہے، واضح رہے کہ یو سی بیروٹ میں اس وقت چار لفٹیں چل رہی ہیں دو کہو غربی، ایک ہوتریڑی اور ایک نے باسیاں ہوترول کے درمیان 2016 میں ہی کام شروع کیا ہے، اس میں بھی نومبر میں خرابی پیدا ہونے سے لوگ چھ گھنٹوں تک کنیر کے اوپر فحا میں ٹنگے رہے جبکہ کہو غربی کے کراچی میں مقیم امتیاز عباسی کی مجوزہ لفٹ پر این او سی نہ لینے پر کے پی کے حکومت نے کام بند کروا دیا ہے ۔۔۔۔ شاید اہلیان کہو غربی کے یہ خواب کبھی پائیہ تکمیل کو پہنچ سکیں۔

روزنامہ نوائے وقت اسلام آباد ۔۔۔۔۔۔30 جنوری 2017
  اس سال اہلیان سرکل بکوٹ کیلئے آمدن کا ایک نیا ذریعہ بھی متعارف ہوا، چھتر میں نیلم جہلم پروجیکٹ کے آخری مراحل میں انجینئرز کیلئے رہائش کا مسئلہ پیدا ہوا، مولیا، بکوٹ اور یو سی بیروٹ کی وی سی باسیاں میں ان کی رہائشی سہولیات حاصل کی گئیں، دو بیڈ، کچن اور باتھ پر مشتمل گھر پندرہ ہزار روپے ماہانہ پر حاصل کئے گئے جن میں واپڈا انجینئرز ابھی تک رہائش پذیر ہیں، اسی سال سرکل بکوٹ اور کوہ مری کےدرجنوں الیکٹریکل انجینئرز کو بھی ہینڈ سم سیلری پیکیج پر اسی پروجیکٹ پر ملازمتیں بھی ملیں، مولیا میں ایم این اے ڈاکٹر ازہر جدون نے وزیر اعلیٰ کی عدم آمد پر پہلے پن بجلی منصوبوں کا بھی تاریخ سرکل بکوٹ میں افتتاح کیا، اس کی ڈسری بیوشن مولیا کے سماجی کارکن آفتاب عباسی کی سربراہی میں کمیٹی نے انجام دی اور اب ۔۔۔۔ لوڈ شیڈنگ کے بغیر اہلیان مولیا تین سو روپے ماہوار میں بغیر میٹر کے بجلی فل وولٹیج کے ساتھ انجوائے کر رہے ہیں ۔۔۔۔ یہی ہیں باکمال لوگ اور ان کی لاجواب سروس ۔۔۔ (ختم شد)

Sunday, January 8, 2017




Criminal activities in
 Circle Bakote
In the year of 2016
************


ممبر ضلع کونسل خالد عباسی اور وائس چیئرمین عتیق عباسی کا پولیس گردی کیخلاف ایکشن ۔۔۔۔ انسپکٹر راشد عباسی کی نوجوانوں سے معذرت
 لوئر دیول سے بھی کیری ڈبہ چوری کر لیا گیا ۔۔۔۔۔ مری اور بکوٹ پولیس ہائی الرٹ
لوئربیروٹ میں چوری کی واردات ۔۔۔۔۔ دو نوجوان اٹھا لئے گئے ۔۔۔۔ مبینہ چھترولی تشدد ۔۔۔۔ اعتراف جُرم کیا یا نہیں، کوہالہ پولیس کے انسپکٹر ارشد عباسی خاموش ۔۔۔۔ بیروٹ سے ممبر ضلع کونسل خالد عباسی اور وائس چیئرمین وی سی بیروٹ کلاں عتیق عباسی نے معاملہ کی تحقیقات کا بیڑہ اٹھا لیا۔
******************
تحقیق و تحریر:عبیداللہ علوی
******************

ممبر ضلع کونسل خالد عباسی اور وائس چیئرمین وی سی بیروٹ کلاں عتیق عباسی کی طلبی پر بکوٹ پولیس کے انسپکٹر ارشد عباسی اور دیگر اہلکاروں نے وی سی آفس اکھوڑاں بازار بیروٹ آ کر عوامی نمائندوں کی موجودگی میں نہ صرف اپنی چھترولی تفتیش پر نوجوانوں سے معذرت کی بلکہ انہیں یقین دلایا کہ بکوٹ پولیس کے متعلقہ اہلکار ۔۔۔۔ آئندہ اس معاملے میں احتیاط برتیں گے اور ان کے نوٹس میں لائے بغیر ۔۔۔۔ کوئی چھترولی تفتیش نہیں کریں گے۔
ممبر ضلع کونسل خالد عباسی اور وائس چیئرمین عتیق عباسی نے پولیس کی معذرت خواہی کے بعد مقامی صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ۔۔۔۔ ہم یو سی بیروٹ کے عوام کے تمام تر سیاسی و مسلکی اختلافات سے بالا تر ہو کر ان کی جان، مال اور عزت و آبرو کے محافظ اور پہائی وال ہیں اور کسی کو بطھی اپنی حد سے تجاوز کی اجازت نہیں دی جائیگی، انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندوں نے خود پولیس کو ہدایت کر رکھی ہے کہ ۔۔۔۔ رات کے اوقات میں کوئی مشکوک فرد یا چیز نظر آئے تو اس کے خلاف فوری کارروائی کی جائے، انہوں نے بتایا کہ ۔۔۔۔ عبدالصمد اعوان اور ہارون عباسی آپس میں برادر نسبتی (سالا بہنوئی) ہیں اور یہاں انہیں کوئی جانتا بھی نہیں ۔۔۔ وہ دو روز سے رات کے پچھلے پہر لوئر بیروٹ میں گھومتے ہوئے پائے گئے، پوچھنے پر پہلی رات انہوں نے پولیس کو بتایا کہ ان کا تعلق بیروٹ سے ہے، اسی رات لوئر بیروٹ میں گھروں اور دکانوں کے تالے ٹوٹے اور لاکھوں کا سامان چوری کر لیا گیا ۔۔۔۔ دوسری رات وہ مولاچھ میں ہوٹل والے سے کہنے لگے کہ ۔۔۔۔ انہیں رہنے کیلئے ایک کمرہ چائیے، جس پر اسے شک گزرا اور اس نے پولیس کو بلا لیا ۔۔۔۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آج رات لوئر دیول میں ایک کیری ڈبہ چوری کر لیا گیا ہے جس کے باعث مری اور بکوٹ پولیس دونوں الرٹ ہیں ۔۔۔۔ انہوں نے کہا کہ بکوٹ بولیس بہت تعاون کرتی ہے اور سردیوں کی ان ٹھنڈی راتوں میں ہمارے تحفظ کیلئے گشت کر رہی ہے ۔۔۔۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ۔۔۔۔ رات نو بجے کے بعد جو کوئی بھی سڑکوں پر پولیس کو گھومتے ہوئے ملا تو وہ اس کی پوچھ گچھ کرے گی اور عوامی نمائندے لوگوں کے تحفظ کیلئے بکوٹ پولیس کے اس اقدام کی حمایت بھی کریں گے ۔۔۔۔۔ عوام علاقہ کا کہنا ہے کہ خالد عباس عباسی اور عتیق عباسی کے اس اقدام سے یہ پیغام گیا ہے کہ ۔۔۔۔۔ ہمارے نمائندے پولیس گردی کو معاف نہیں کر سکتے اور عوامی مفاد میں وہ اپنے اختیارات کو بھی استعمال کر رہے ہیں ۔۔۔۔ اس لئے ان دونوں عوامی نمائندوں کا یہ اقدام قابل صد تحسین ہے اور دونوں مبارکباد کے مستحق ہیں۔


پس منظر
بکوٹ پولیس کے نئے ایس ایچ او کی آمد کے ساتھ ہی ۔۔۔۔۔ سرکل بکوٹ کی چھ یونین کونسلوں میں ڈکیت اور چور گینگز کو فری ہینڈ مل گیا ہے، چند روز پہلے بکوٹ پولیس شمالی سرکل بکوٹ میں ہونے والے قتل کے ملزموں کو بھی ابھی تک گرفتار نہیں کر سکی ہے، اب چوریوں اور ڈکیتیوں کا دائرہ یو سی بیروٹ تک وسیع ہو گیا ہے اور ایک ہی تاریک رات میں ۔۔۔۔ لاکھوں روپے کی ۔۔۔۔ دیہاڑی ۔۔۔۔ لگا کر مجرم رفو چکر ہو چکے ہیں۔
دو نوجوان جو مظفر آباد جانے کی غرض سے کوہالہ تک گئے اور کام نہ ہونے کی اطلاع پر واپس آ کر پرسوں رات یہاں مولاچھ، لوئر باسیاں کے ایک ہوٹل میں بیٹھے کھانا کھا رہے تھے، بکوٹ پولیس کی وین شاہراہ کشمیر پر گشت پر تھی، پولیس وین بھی اسی ہوٹل پر رکی، شدید سردی میں چائے پینے کیلئے یہ فرض شناس اہلکار بھی اترے ۔۔۔۔ پولیس کے مطابق یہاں موجود دو نوجوان ہارون عباسی ولد شبیر عباسی اور عطاالصمد اعوان ولد سجاد حسین اعوان ان وردی پوش اہلکاروں کو دیکھ کر ۔۔۔۔ آدھا کھانا چھوڑ کر کھسکنے لگے ۔۔۔۔ پولیس کی روایتی چھٹی حس نے الارم بجا دیا اور کوہالہ چوکی کے نو تعینات انسپکٹر ۔۔۔۔ ارشد عباسی آف لورہ ۔۔۔۔ نے ان دونوں لڑکوں کو ۔۔۔۔ دو تھپڑ جھڑتے ہوئے اپنے ساتھ وین میں بٹھا کر چوکی میں لے آئے ۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔ پورے اعزاز کے ساتھ سردیوں کی اس ٹھنڈی ٹھار رات میں اپنا تفتیشی چھترولی مرحلہ مکمل کیا ۔۔۔۔ کیا ملزموں نے اعتراف جرم کیا ۔۔۔۔؟ کوئی تفتیشی انکشاف بھی چھوڑا ۔۔۔۔۔؟ اس بارے میں بکوٹ پولیس کی کوہالہ چوکی کے ۔۔۔۔ بہادر انسپکٹر ارشد صاحب ۔۔۔۔ فی الحال کچھ کہنے سے مکمل طور پر پرہیز کر رہے ہیں جیسے وہ شمالی سرکل بکوٹ کے ایک بابا کے قتل کے ملزمان پر ہاتھ ڈالنے میں ابھی تک ناکام و نامراد ہیں ۔۔۔۔۔ بتایا جاتا ہے کہ اس واقعہ کی ابھی تک بکوٹ تھانہ کے روزنامچہ میں اندراج یا ایف آئی آر بھی رجسٹرڈ نہیں کی گئی ہے ۔۔۔۔۔ ہے ناں سوچنے کی بات ۔۔۔۔۔؟
اب آتے ہیں ۔۔۔۔ بیروٹوی ملزمان کی طرف ۔۔۔۔ یہ دونوں چھترول یافتہ ملزمان ہارون عباسی اور عبدالصمد اعوان اس موقف پر ریڑھ کی ہڈی کے مبینہ فریکچر کے باوجود قائم و دائم ہیں کہ ۔۔۔۔ ان کا لوئر بیروٹ کی چوری کی واردات سے کوئی لینا دینا ہے نہ ہی وہ سرکل بکوٹ کے کسی نامور یا خاموش ڈکیت اور واردتئیے گینگ سے ہی کوئی تعلق رکھتے ہیں، ہارون عباسی کو راقم الحروف ذاتی طور پر تو نہیں جانتا مگر ۔۔۔۔ عبدالصمد اعوان ۔۔۔۔ بیروٹ سے ممبر ضلع کونسل خالد عباسی کے پڑوسی ۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔ لمیاں لڑاں میں علوی اعوان قبیلہ کے معروف عالم دین مولانا محمد سعید اعوان مرحوم کا پوتا اور دو سال قبل وفات پانے والے ان کے بیٹے سجاد اعوان مرحوم کا بیٹا ہے ۔۔۔۔ سجاد اعوان مرحوم کی فیملی ایک عرصہ سے راولپنڈی میں مقیم ہے اور ان کے سارے صاحبزادے پنڈی میں ہی ملازمت اور کاروبار کر رہے ہیں، سجاد اعوان باسیاں کے نجیب الدین جدون مرحوم کے داماد تھے ۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔ اس گنہگار یا بے گناہ ملزم عبدالصمد اعوان کو پولیس کی چھترولی تفتیش اور مبینہ بہیمانہ ظلم و ستم سے چھڑانے اور ان کا میڈیکل چیک اپ کا عمل اس کے ماموں ہی کر رہے ہیں ۔۔۔۔ لمیاں لڑاں میں ابھی تک اس بارے میں مکمل خاموشی ہے۔
پولیس کی تفتیشی چھترول سے متاثرہ یہ دونوں ملزمان ہارون عباسی، عبدالصمد اعوان اور ان کے اہلخانہ یہ الزام لگا رہے ہیں کہ ۔۔۔۔۔ بکوٹ پولیس کے اہلکار ارشد عباسی نے اس چوری کے الزام میں محض ۔۔۔۔ نگ ۔۔۔۔ پورے کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ اصل مُدا یہ ہے کہ ان دونوں کے اہلخانہ نے وی سی بیروٹ کے بلدیاتی الیکشن میں ۔۔۔۔ جنرل کونسلر عبدالقیوم عباسی ۔۔۔۔ کی ڈٹ کر مخالفت کی تھی جس کا انتقام پولیس کے ذریعے اب لیا گیا ہے ۔۔۔۔۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ ۔۔۔۔۔ پولیس کی چھترول سے ملزموں کے گردوں کی تباہی سے متعلق میڈیکل رپورٹ بھی موجود ہے ۔۔۔ جبکہ اس معاملے کو ایبٹ آباد لے جانے کے بجائے ممبر ضلع کونسل خالد عباس عباسی اور وائس چیئرمین وی سی بیروٹ کلاں عتیق عباسی نے ۔۔۔۔ ان متاثرین پولیس کو یقین دلایا ہے کہ ۔۔۔۔۔ اگر وہ بے گناہ ہیں تو ۔۔۔۔ ان کو ضرور انصاف ملے گا اورتفتیش کے بغیر بے گناہوں کو اٹھانے اور ان کی بلا جواز فری ہینڈ چھترول کرنے کا ازلہ بھی کیا جائے گا ۔۔۔۔۔؟ خدا کرے کہ ۔۔۔۔۔ اس انصاف کی فراہمی ۔۔۔۔۔ کشمیر کی آزادی ۔۔۔۔ سے مشروط ہوئے بغیر اگر گھنٹوں میں نہیں تو کم از کم ۔۔۔۔ دنوں میں ضرور مکمل ہو ۔۔۔۔۔ اور انہیں بقول فیض احمد فیض یہ نہ کہنا پڑے کہ ؎
منصف ہو تو حشر اب اُٹھا کیوں نہیں دیتے
مٹ جائیگی مخلوق تو ۔۔۔۔۔ انصا ف کرو گے

Wednesday, October 5, 2016

The DIG Hazara Devision Saqeed Wazir visit to Circle Bakote Police Station


The DIG Hazara Devision Saeed Wazir
 visit to Circle Bakote Police Station
In News
Daily AEINA E JAHAN Islamabad ..... 02 Oct, 2016
In Pixes
 
 
 
 
***************************

Thursday, December 19, 2013



Circle Bakote

A land of peaceful people
Searched and written by
MOHAMMED OBAIDULLAH ALVI
(Journalist, Historian, Blogger and Anthropologist)
**************************************************************************
For photos, credit goes to senior journalist 
Naveed Akram Abbasi
of Bakote (Cell No 03335417660)
**************************************************************************
LATEST NEWS
***********************
Thinkers are simultaneously agreed on a point of Criminology Science that crime takes birth when social injustice is dancing in our peaceful society. It has been confirmed that feudalism existed in Circle Bakote since millenniums, started prehistory periods to end of 1952 in Jalal Baba provincial government in NWFP (now KPK). Agriculture based civilization evolutionarized in this area among valuable virtues from birth time to entry in to final house after death but basic nature of crime in this are have only one point of production, is value and composition of land possession individually or as a tribe. 
Nature of Disputes
There is a vast agriculture land in Circle Bakote in many tribes possession.  We can be analyzed only one example in UC Birote that many sub tribes of Dhund Abbasi are master of land there as Khanals in Termuthean, Kaho East and West, Nikodrals in Kahoo  East and Birote Khurd, Bankals, Faqirals, Murtals, Mirals, Mehrals, Chingsals, Nawaesals and Kamlals have a vast land in Central Birote, Hitrerhi, Hotrol and Sangrerhi in Birote Khurd. Qutbals and Mojwals are solo master of both Nakers in Birote Khurd but Mojwals are a powerful stack holders in gravitational centre of Circle Bakote, I means Union Council Bakote. The possessed this area from Kethwal and Kerhal tribes in 14th century and continued cultural evolution with previous Kethwali Indo Persian civilization. The size of land minimized as time by time and generation after generation, a since of loss continuously aroused among land owners, some accepted the reality of evolutionary steps in inheritance but a few believed in power usage and aggression. The boundary of KPK and Punjab from west bank of River Jhelum to Jhari Kas on Rawalpindi Abbottabad Highway came in to being when Heje Khan, Hamu Khan, Humaira Khan and Pilu Khan had not acknowledged their step brother Lahr Khan. This injustification produced an anarchy among Rattan Khan family and Lahr Khan approached to Civil Court in Pherwala, Kahuta, the capital of Ghakherh Kingdom of Potohar and Kohsar. Jusrat Khan was feudal Lord of area and he summoned both parties and his court establish in Dewal. He settled this issue after hearing their point of view and decided a draw of boundary line between Heje Khan, his brother and Lahr Khan property as sub feudal lords. This boundary line had gained a permanent status in Mughal Kingdom, Sikh regime of Lahore, British Government and Pakistan now.
Other side of dispute
People of Circle Bakote were offensive in far past as they attacked on Karhals in Bakote but when they occupied the area they became defensive. Bakote vacated area repopulated by Mojwal in a accidental assurances as a woman of Birotians were killed by them in Basian and they vacated Basian as a killing penalty. They migrated Bakote in second half of 16th century. They felt insult and continued assault over Basian time by toime.  Birotians fuaduals coloniezed Rakheyal (guards) families at Domale Basian and elert in defensive position. Birotians also occupied inside Bakote territory on Knair Pull and started silicone trade as a new source of income. They legalized this accopation in first Bandobast (Permanent Sattelment) of 1861, as a result three hundred yard of land in upside north of Knair Pull from River Jhelum to Rekhadi is now property of Union Council Birote inside Union Council Bakote.The Bazar of Knair Pul is also belonged to Birotians or people of Basian. All voices regarding dearness in this place of interests and natural beauty for tourists should be analyzed in this contest by Bakotians journalists. Same dispute is also at Malkote Bridge and Koza Gali boundaries with Union Council Birote. Union Council Brote claimed that Moshpuri is a part of Birote but Koza Gali and Nathea Gali Authorities, especially Galyat Development Authority (GDA) translated this highest peak as part of Natheya Gali.
Lawyers of UC Birote
  1. Abdul Qayoum Qureshi of Termuthean, ever first lawyer graduated in 1940. He was advocate in the Suprem Court of Pakistan, died in 1995.
  2. Mohammed Nawaz Abbasi advocate of Hotrol, Birote Khurd. He is Aducate of Sindh High Court  in Karachi since 1980.,
  3. Mohabbat Husain Awan of Central Birote. He is Corporate Lawyer in Karachi.
  4. Mohammed Arshad Abbasi of Naker Mowal, advocate in Lahore High Court, Rawalpindi Bench since 1975. He built his hous in front of Government Higher Secondary School Birote in 2009.
  5. Tahir Faraz Abbasi of Kahoo East, practicing in Session Court Abbottabad, He was Nazim of Union Council Birote in 2001-05
  6. Sajjad Abbasi of Basian, advocate in Session Court Abbottabad since 1982.
  7. Shuaib Abbasi of Basian, advocate in Session Court Murree. He appointed as ad hoc Session Judge in Sawat Also in 2002.
  8. Mrs Tayeba Abbasi, she is sister law of Shuaib Abbasi of Basian and practiced in District Rawalpindi Bar Association and contested as candidate DBA election 2014.
  9. Tayeba Abbasi
  10. Saeed Ahmed Abbasi and Sajid Quraish Abbasi are also advocate and practiced with Nawaz Abbasi Advocate in Karachi but they did not continue their career as lawyers. The are educationists and politicians of Circle Bakote.
  11. Tayeba Abbasi is first lady lawyer of Basian, UC Birote practicing in Session and High Court Rawalpindi. She is active trade unionist of the Rawalpindi Bar and won office of the Voice President. (To be continued)

Bakote Police important Tel Ph Nos.

POLICE STATION OFFICIAL NO: +92-0992-451361
----------------------
SHO Gulzar Khan:+92-0301-8125014
ASI Bakote Amjed Salar Khan:+92-0312-5877422
ASI Kohala Nazeer Abbasi:+92-0344-9438433
*********************
 Lawyers of Bakote
(To be continued)
 
 Bakote.......... 17th Oct, 2014

Ex SHO Bakote Jawaid Khan with journalists of Circle Bakote, Tariq Nawaz Abbasi (current Chairman), A Waheed Abbasi, Ishteaq Abbasi (current Presidant GCBUJ) and host Naweed Akram Abbasi
 Published in all newspapers of Abbottabad, Rawalpindi Islamabad and Peshawar
05th May, 2014

Bakote Police Station through ages
Sardar Lehna Sing  of Garhi Habibullah (1863-92)
first SHO of Circle Bakote
********************************
First in History Raja Mell of Malkot (before Islam) established his a small kingdom in Murree Hills, Galyat and Circle Bakote after destruction of Gandara Kingdom of Taxila by Huns. He constructed forts at strategical important places of region and he first time use Turkish word KOT for fort but it was a KOTLA (small fort) not KOT. Bakote was also a land of KOTLA and a contingent staff were appointed. during Raja Rasalo time. When Gakherh accopied this land they continue status co there till Hazara annexation with Punjab in Ranjeet Sing reign in 1818. They upgraded this KOTLA in to a Fort with heavy contingent of horse riders who speedily approached any place in any time. Same forts also constructed in Aarhi (Had on Murree Birote borderline) in Dewal, Dannah, Rajoya, and Khanpor. British Government renovated status of this FORT in Police Station, constructed new building and appointed new staff with guns, a small jail and a force of Numberdars as well as secret intelligence providers. The first ever SHO of British time was Sardar Lehna Sing  of Garhi Habibullah and last was Sardar Teja Sing, who went to Jamu under safeguard of Bakotians on 25th March, 1947.  Abdullah Khan of Hawailiyan was first Muslim SHO of Circle Bakote appointed on 27th Mach, 1947 and he continuesly working there till 1950, the longest period of any SHO in Circle Bakote. The first SHO belonged to Union Council Bakote is Basharat Abbasi who is employ Punjab Government Home Department and serving in Rawalpindi Revision since 30 years. (Source: FIR register no 02, (1946) 13, (!948) of Bakote Police Station. I studied these registers personally in 2009)

Newly constructed Bakote Police Station
People of Circle Bakote says that Justice by Bakote Police providing on this piece of paper
that have no value according to law.
Is this a humor with people or really Bakote Police have no printed stationary?

Crimes in 2015 in Circle Bakote
سرکل بکوٹ کے عوام کی سب سے زیادہ محبت اور خلوص پانے والا ایس ایچ او
سردار واجد رشید
اہلیان سرکل بکوٹ کا
 ایس ایچ اوسردار واجد حسین
سے محبت کا اظہار
اہلیان کہو شرقی کی
ایس ایچ اوسردار واجد رشید
 کے حق میں قرارداد مزمت
اہلیان سرکل بکوٹ کا
جمعرات 29جولائی 2016کو
سابق
ایس ایچ او بکوٹ سردار واجد حسین کے حق میں
 اہلیان  یو سی بیروٹ کا
 احتاجی مظاہرہ
بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے
\   
 ایس ایچ او بکوٹ پرویز خان بگنوتر ٹرانسفر
 نئے ایس ایچ او نےچارج سنبھال لیا
  ایس ایچ او بکوٹ پرویز خان منشیات فروشوں کا سرپرست ثابت ہوا اور بگنوتر ٹرانسفر کر دیا گیا، ایبٹ آباد پولیس لائن کا ایس ایچ او بکوٹ میں تعینات، ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر شیر اکبر خان نے احکامات جاری کر دئے۔ پرویز خان کی طرف سے سرکل بکوٹ میں منشیات فروشوں کی سرپرستی کا الزام بھی ثابت، بیروٹ میں وی سی کے نو منتخب ناظم ندیم عباسی اور سابق ناضم آفاق عباسی نے منشیات فروش اور اس کے قبضہ سے ملنے والی اڑھائی کلو چرس پکڑ کر پرویز خان کے حوالے کی تھی ۔اس سے پہلے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
بیروٹ: ویلیج کونسل کے نو منتخب ناظم ندیم عباسی اور سابق ناظم آفاق عباسی منشیات کا وزن کر رہے ہیں، ایس ایچ او بھی پاس کھڑے ہیں۔
 
02nd March, 2015
Daily Aaj Abbottabad
3rd March, 2015

Nature of Crimes in Circle Bakte
28th Jan, 2014
18th Jan, 2014
12th Jan, 2014
 Baber Abbasi......... The real character of Madarba Scandal
14th Jan, 2014

 THE UNBELIEVABLE CRIME OF THE YEAR 2013
The unbelievable crime in 2013 that first ever committed in Circle Bakote crime history 
(Special complements and credets for these photos to Naweed Akram abbasi, senior journalist of UC Bakote.