Sunday, January 8, 2017




Criminal activities in
 Circle Bakote
In the year of 2016
************


ممبر ضلع کونسل خالد عباسی اور وائس چیئرمین عتیق عباسی کا پولیس گردی کیخلاف ایکشن ۔۔۔۔ انسپکٹر راشد عباسی کی نوجوانوں سے معذرت
 لوئر دیول سے بھی کیری ڈبہ چوری کر لیا گیا ۔۔۔۔۔ مری اور بکوٹ پولیس ہائی الرٹ
لوئربیروٹ میں چوری کی واردات ۔۔۔۔۔ دو نوجوان اٹھا لئے گئے ۔۔۔۔ مبینہ چھترولی تشدد ۔۔۔۔ اعتراف جُرم کیا یا نہیں، کوہالہ پولیس کے انسپکٹر ارشد عباسی خاموش ۔۔۔۔ بیروٹ سے ممبر ضلع کونسل خالد عباسی اور وائس چیئرمین وی سی بیروٹ کلاں عتیق عباسی نے معاملہ کی تحقیقات کا بیڑہ اٹھا لیا۔
******************
تحقیق و تحریر:عبیداللہ علوی
******************

ممبر ضلع کونسل خالد عباسی اور وائس چیئرمین وی سی بیروٹ کلاں عتیق عباسی کی طلبی پر بکوٹ پولیس کے انسپکٹر ارشد عباسی اور دیگر اہلکاروں نے وی سی آفس اکھوڑاں بازار بیروٹ آ کر عوامی نمائندوں کی موجودگی میں نہ صرف اپنی چھترولی تفتیش پر نوجوانوں سے معذرت کی بلکہ انہیں یقین دلایا کہ بکوٹ پولیس کے متعلقہ اہلکار ۔۔۔۔ آئندہ اس معاملے میں احتیاط برتیں گے اور ان کے نوٹس میں لائے بغیر ۔۔۔۔ کوئی چھترولی تفتیش نہیں کریں گے۔
ممبر ضلع کونسل خالد عباسی اور وائس چیئرمین عتیق عباسی نے پولیس کی معذرت خواہی کے بعد مقامی صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ۔۔۔۔ ہم یو سی بیروٹ کے عوام کے تمام تر سیاسی و مسلکی اختلافات سے بالا تر ہو کر ان کی جان، مال اور عزت و آبرو کے محافظ اور پہائی وال ہیں اور کسی کو بطھی اپنی حد سے تجاوز کی اجازت نہیں دی جائیگی، انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندوں نے خود پولیس کو ہدایت کر رکھی ہے کہ ۔۔۔۔ رات کے اوقات میں کوئی مشکوک فرد یا چیز نظر آئے تو اس کے خلاف فوری کارروائی کی جائے، انہوں نے بتایا کہ ۔۔۔۔ عبدالصمد اعوان اور ہارون عباسی آپس میں برادر نسبتی (سالا بہنوئی) ہیں اور یہاں انہیں کوئی جانتا بھی نہیں ۔۔۔ وہ دو روز سے رات کے پچھلے پہر لوئر بیروٹ میں گھومتے ہوئے پائے گئے، پوچھنے پر پہلی رات انہوں نے پولیس کو بتایا کہ ان کا تعلق بیروٹ سے ہے، اسی رات لوئر بیروٹ میں گھروں اور دکانوں کے تالے ٹوٹے اور لاکھوں کا سامان چوری کر لیا گیا ۔۔۔۔ دوسری رات وہ مولاچھ میں ہوٹل والے سے کہنے لگے کہ ۔۔۔۔ انہیں رہنے کیلئے ایک کمرہ چائیے، جس پر اسے شک گزرا اور اس نے پولیس کو بلا لیا ۔۔۔۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آج رات لوئر دیول میں ایک کیری ڈبہ چوری کر لیا گیا ہے جس کے باعث مری اور بکوٹ پولیس دونوں الرٹ ہیں ۔۔۔۔ انہوں نے کہا کہ بکوٹ بولیس بہت تعاون کرتی ہے اور سردیوں کی ان ٹھنڈی راتوں میں ہمارے تحفظ کیلئے گشت کر رہی ہے ۔۔۔۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ۔۔۔۔ رات نو بجے کے بعد جو کوئی بھی سڑکوں پر پولیس کو گھومتے ہوئے ملا تو وہ اس کی پوچھ گچھ کرے گی اور عوامی نمائندے لوگوں کے تحفظ کیلئے بکوٹ پولیس کے اس اقدام کی حمایت بھی کریں گے ۔۔۔۔۔ عوام علاقہ کا کہنا ہے کہ خالد عباس عباسی اور عتیق عباسی کے اس اقدام سے یہ پیغام گیا ہے کہ ۔۔۔۔۔ ہمارے نمائندے پولیس گردی کو معاف نہیں کر سکتے اور عوامی مفاد میں وہ اپنے اختیارات کو بھی استعمال کر رہے ہیں ۔۔۔۔ اس لئے ان دونوں عوامی نمائندوں کا یہ اقدام قابل صد تحسین ہے اور دونوں مبارکباد کے مستحق ہیں۔


پس منظر
بکوٹ پولیس کے نئے ایس ایچ او کی آمد کے ساتھ ہی ۔۔۔۔۔ سرکل بکوٹ کی چھ یونین کونسلوں میں ڈکیت اور چور گینگز کو فری ہینڈ مل گیا ہے، چند روز پہلے بکوٹ پولیس شمالی سرکل بکوٹ میں ہونے والے قتل کے ملزموں کو بھی ابھی تک گرفتار نہیں کر سکی ہے، اب چوریوں اور ڈکیتیوں کا دائرہ یو سی بیروٹ تک وسیع ہو گیا ہے اور ایک ہی تاریک رات میں ۔۔۔۔ لاکھوں روپے کی ۔۔۔۔ دیہاڑی ۔۔۔۔ لگا کر مجرم رفو چکر ہو چکے ہیں۔
دو نوجوان جو مظفر آباد جانے کی غرض سے کوہالہ تک گئے اور کام نہ ہونے کی اطلاع پر واپس آ کر پرسوں رات یہاں مولاچھ، لوئر باسیاں کے ایک ہوٹل میں بیٹھے کھانا کھا رہے تھے، بکوٹ پولیس کی وین شاہراہ کشمیر پر گشت پر تھی، پولیس وین بھی اسی ہوٹل پر رکی، شدید سردی میں چائے پینے کیلئے یہ فرض شناس اہلکار بھی اترے ۔۔۔۔ پولیس کے مطابق یہاں موجود دو نوجوان ہارون عباسی ولد شبیر عباسی اور عطاالصمد اعوان ولد سجاد حسین اعوان ان وردی پوش اہلکاروں کو دیکھ کر ۔۔۔۔ آدھا کھانا چھوڑ کر کھسکنے لگے ۔۔۔۔ پولیس کی روایتی چھٹی حس نے الارم بجا دیا اور کوہالہ چوکی کے نو تعینات انسپکٹر ۔۔۔۔ ارشد عباسی آف لورہ ۔۔۔۔ نے ان دونوں لڑکوں کو ۔۔۔۔ دو تھپڑ جھڑتے ہوئے اپنے ساتھ وین میں بٹھا کر چوکی میں لے آئے ۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔ پورے اعزاز کے ساتھ سردیوں کی اس ٹھنڈی ٹھار رات میں اپنا تفتیشی چھترولی مرحلہ مکمل کیا ۔۔۔۔ کیا ملزموں نے اعتراف جرم کیا ۔۔۔۔؟ کوئی تفتیشی انکشاف بھی چھوڑا ۔۔۔۔۔؟ اس بارے میں بکوٹ پولیس کی کوہالہ چوکی کے ۔۔۔۔ بہادر انسپکٹر ارشد صاحب ۔۔۔۔ فی الحال کچھ کہنے سے مکمل طور پر پرہیز کر رہے ہیں جیسے وہ شمالی سرکل بکوٹ کے ایک بابا کے قتل کے ملزمان پر ہاتھ ڈالنے میں ابھی تک ناکام و نامراد ہیں ۔۔۔۔۔ بتایا جاتا ہے کہ اس واقعہ کی ابھی تک بکوٹ تھانہ کے روزنامچہ میں اندراج یا ایف آئی آر بھی رجسٹرڈ نہیں کی گئی ہے ۔۔۔۔۔ ہے ناں سوچنے کی بات ۔۔۔۔۔؟
اب آتے ہیں ۔۔۔۔ بیروٹوی ملزمان کی طرف ۔۔۔۔ یہ دونوں چھترول یافتہ ملزمان ہارون عباسی اور عبدالصمد اعوان اس موقف پر ریڑھ کی ہڈی کے مبینہ فریکچر کے باوجود قائم و دائم ہیں کہ ۔۔۔۔ ان کا لوئر بیروٹ کی چوری کی واردات سے کوئی لینا دینا ہے نہ ہی وہ سرکل بکوٹ کے کسی نامور یا خاموش ڈکیت اور واردتئیے گینگ سے ہی کوئی تعلق رکھتے ہیں، ہارون عباسی کو راقم الحروف ذاتی طور پر تو نہیں جانتا مگر ۔۔۔۔ عبدالصمد اعوان ۔۔۔۔ بیروٹ سے ممبر ضلع کونسل خالد عباسی کے پڑوسی ۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔ لمیاں لڑاں میں علوی اعوان قبیلہ کے معروف عالم دین مولانا محمد سعید اعوان مرحوم کا پوتا اور دو سال قبل وفات پانے والے ان کے بیٹے سجاد اعوان مرحوم کا بیٹا ہے ۔۔۔۔ سجاد اعوان مرحوم کی فیملی ایک عرصہ سے راولپنڈی میں مقیم ہے اور ان کے سارے صاحبزادے پنڈی میں ہی ملازمت اور کاروبار کر رہے ہیں، سجاد اعوان باسیاں کے نجیب الدین جدون مرحوم کے داماد تھے ۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔ اس گنہگار یا بے گناہ ملزم عبدالصمد اعوان کو پولیس کی چھترولی تفتیش اور مبینہ بہیمانہ ظلم و ستم سے چھڑانے اور ان کا میڈیکل چیک اپ کا عمل اس کے ماموں ہی کر رہے ہیں ۔۔۔۔ لمیاں لڑاں میں ابھی تک اس بارے میں مکمل خاموشی ہے۔
پولیس کی تفتیشی چھترول سے متاثرہ یہ دونوں ملزمان ہارون عباسی، عبدالصمد اعوان اور ان کے اہلخانہ یہ الزام لگا رہے ہیں کہ ۔۔۔۔۔ بکوٹ پولیس کے اہلکار ارشد عباسی نے اس چوری کے الزام میں محض ۔۔۔۔ نگ ۔۔۔۔ پورے کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ اصل مُدا یہ ہے کہ ان دونوں کے اہلخانہ نے وی سی بیروٹ کے بلدیاتی الیکشن میں ۔۔۔۔ جنرل کونسلر عبدالقیوم عباسی ۔۔۔۔ کی ڈٹ کر مخالفت کی تھی جس کا انتقام پولیس کے ذریعے اب لیا گیا ہے ۔۔۔۔۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ ۔۔۔۔۔ پولیس کی چھترول سے ملزموں کے گردوں کی تباہی سے متعلق میڈیکل رپورٹ بھی موجود ہے ۔۔۔ جبکہ اس معاملے کو ایبٹ آباد لے جانے کے بجائے ممبر ضلع کونسل خالد عباس عباسی اور وائس چیئرمین وی سی بیروٹ کلاں عتیق عباسی نے ۔۔۔۔ ان متاثرین پولیس کو یقین دلایا ہے کہ ۔۔۔۔۔ اگر وہ بے گناہ ہیں تو ۔۔۔۔ ان کو ضرور انصاف ملے گا اورتفتیش کے بغیر بے گناہوں کو اٹھانے اور ان کی بلا جواز فری ہینڈ چھترول کرنے کا ازلہ بھی کیا جائے گا ۔۔۔۔۔؟ خدا کرے کہ ۔۔۔۔۔ اس انصاف کی فراہمی ۔۔۔۔۔ کشمیر کی آزادی ۔۔۔۔ سے مشروط ہوئے بغیر اگر گھنٹوں میں نہیں تو کم از کم ۔۔۔۔ دنوں میں ضرور مکمل ہو ۔۔۔۔۔ اور انہیں بقول فیض احمد فیض یہ نہ کہنا پڑے کہ ؎
منصف ہو تو حشر اب اُٹھا کیوں نہیں دیتے
مٹ جائیگی مخلوق تو ۔۔۔۔۔ انصا ف کرو گے

No comments:

Post a Comment