Thursday, January 12, 2017


Crime & Law in Circle Bakote
2016

سرکل بکوٹ میں جرم و سزا ۔۔۔۔اور ۔۔۔۔ پولیس کی کارکردگی

**************
تحقیق و تحریر: محمد عبیداللہ علوی 
**************
تازہ ترین
**************
روزنامہ محاسب، روزنامہ نوائے ہزارہ ایبٹ آباد
دس اپریل، 2017
 سال 2016 میں سرکل بکوٹ میں جرائم کا پہلا واقعہ کوہالہ پولیس چوکی کے پاس ہوا جہا ں ۔۔۔ دریا کے ارار پار باقاعدہ فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور اس میں شرقی کوہالہ کا ایک صحافی بھی زخمی بھی ہوا، اس کے جواب میں ٹرانسپورٹروں نے احتجاج کے طور پر مظفر آباد، باغ اور راولپنڈی اسلام آباد کے درمیان ٹرانسپورٹ کا سلسلہ بند کر دیا، بعد ازاں کے پی کے اور آزاد کشمیر کی حکومتوں میں مزاکرات کے بعد حالات نارمل ہوئے، اس سال کنیر پل اور مولیا آبشار پر بھی ایک دو ناخوشگوار واقعات پیش آئے، بیروٹ میں ایک منشیات فروش سے تین کلو چرس پکڑی گئی، سابق ناظم بیروٹ آفاق عباسی اور وی سی بیروٹ کلاں کے حاضر سروس چیئرمین ندیم عباسی نے ۔۔۔۔ منشیات فروش کو اس کی کمائی اور مال سمیت ۔۔۔۔ اس وقت کے ایس ایچ او ۔۔۔۔ پرویز خان ۔۔۔۔ کے حوالے کیا جس نے حق نمک ادا کرتے ہوئے سرکل بکوٹ کے اس موت کے سوداگر کو محفوظ مقام کی طرف روانہ کر دیا، اس وقت یہ شکایت بھی سنی گئی کہ ۔۔۔۔ بکوٹ پولیس کی سرپرستی میں ۔۔۔۔ کنیر پل پر جام سمیت ساقی کی بھی سہولیات دستیاب ہیں، کوہالہ چوکی کے اہلکار یہاں پھرتیاں دکھاتے مگر خود بھی چند گھونٹ حلق سے اتار کر پھر اس دھندے کا لائسنس رینیو کر کے چلتے بنتے ۔۔۔۔ پھر ۔۔۔۔ قدرت کو اہلیان سرکل بکوٹ پر ترس آ گیا، بکوٹ تھانے کو ایک روشن خیال اور کریمینالوجی کا ایکسپرٹ ۔۔۔ سٹیشن ہائوس آفیسر سردار واجد خان ۔۔۔۔ ملا، کوہالہ میں ہونے والی فائرنگ نے اسے ہلا کر رکھ دیا اور اس نے نئی حکمت عملی ترتیب دے کر نیشنل ایکشن بنا کر اہلکاروں کو بھی ۔۔۔۔ انسان کا بچہ بنایا، مجرموں کو پھر سرکل بکوٹ میں ٹھکانہ ملنا محال ہو گیا ۔۔۔۔ کمائی چوپٹ ہوئی تو ۔۔۔۔ سردار واجد خان کو بھی اٹھا لیا گیا یہ واحد پولیس آفیسر تھا جسے قدرت نے سرکل بکوٹ میں اتنی عزت دی کہ کوئی آفیسر اس کی صرف آرزو ہی کر سکتا ہے ۔۔۔۔ موجودہ ایس ایچ او سے قبل کے گلزار خان نے ۔۔۔۔ اس کمائی کا خسارہ پورا کرنے کی کوشش تو کی ۔۔۔۔ مگر 2016 کے ٹھنڈے ٹھار اداس دسمبر کے آخری ہفتے میں اس کا بھی بلاوہ آ گیا اور اب ۔۔۔ تھانہ بکوٹ میں کوئی نئی سرکار آئی ہے اس کو کوہالہ پولیس چوکی میں ۔۔۔۔ سرکل لورہ کا ایک اے ایس آئی ۔۔۔۔ ارشد عباسی بھی ملا ہے جس نے بیروٹ کے دو نوجوانوں پر ہاتھ رکھا ، رات بھر ۔۔۔ چھترولی تفتیش یا تفتیشی چھترول اور لترول ۔۔۔۔ جاری رکھی تیسرے روز اسے وی سی بیروٹ کے آفس میں اپنے اختیارات سے تجاوز کے جرم میں معافی بھی مانگنی پڑی ۔۔۔۔ اسی ہفتے سرکل بکوٹ میں ایک ستر سالہ بابے کو بھی قتل کر دیا گیا مگر ۔۔۔۔ قاتل ابھی تک ۔۔۔۔ بکوٹ پولیس کے شیر جوانوں کی دسترس سے باہر ہیں ۔۔۔ باسیاں سے مضاربہ سیکنڈل کے مرکزی کردار اور کروڑوں روپے پر ہاتھ صاف کرنے والے بابر عباسی بھی دس سال گزرنے کے باوجود بکوٹ پولیس کیلئے ابھی تک اجنبی ہیں۔ ماشااللہ
سرکل بکوٹ میں ۔۔۔۔ کوئی لڑکی لڑکا ہو یا شادی شدہ خاتون ۔۔۔۔ ان کے پاس ایک نہایت ہی مہلک ہتھیار ۔۔۔۔ دریائے جہلم میں کودنے کی دھمکی ہوتی ہے، یہ دھمکی ۔۔۔۔ برسوں سے التوا کا شکار مسائل کو شوہراور والدین سے لمحوں میں حل کروا دیتی ہے ۔۔۔۔ اس کے باوجود سال2016 میں چار خواتین نے اس دھمکی پر عملدر آمد بھی کر دیا، ان میں سے ایک کنیر پل سے دریائے جہلم میں کود گئی، منڈی بہائوالدین کے خاندان کی بچی پھسل کر موجوں سے ہمکنار ہوئی جبکہ اس کا والد اسے بچانے کیلئے کودا اور جان دے دی، ایک اور خاتون نےجان دینے کیلئے اولڈ کوہالہ پل کو چنا اور عملدرآمد کر دیا، ایک لاش مظفر آباد سے آئی جسے کوہالہ پولیس نے نکال کر دفن کیا۔
2016 ۔۔۔۔ کا سال بیروٹ خورد کی ایک نو بیاہتا خاتون سمیعہ اور گلیات کی ایک سٹوڈنٹ عنبرین کو بھی کھا گیا ۔۔۔ مگر ۔۔۔۔ جس قتل یا خود کشی کے واقعہ نے زلزلہ کی طرح ۔۔۔۔ یہاں کی دھرتی اور یہاں کے رہنے والوں کو ۔۔۔۔ اندر اور باہر سے ہلا کر رکھ دیا وہ ۔۔۔۔ جرنیلوں اور وفاقی حاضر سروس بااختیار نون لیگی وزرا کی یو سی دیول کی صفہ اکیڈمی کی ٹیچر ۔۔۔۔ ماریہ عباسی ۔۔۔۔ کی وہ دردناک اور المناک موت تھی جسے سنتے ہی ۔۔۔۔ کوہسار کے پتھر بھی رو پڑے ۔۔۔۔ پہلے قتل کے الزام میں اوسیا کے ریٹائرڈ ٹیچر شوکت عباسی، پھر اس کے بیٹے ہارون عباسی اور کچھ دیگر کو گرفتار کیا گیا مگر پنجاب پولیس کی انکوائری نے ماسٹر شوکت اس کے بیٹے ہارون اور دیگر کو بے گناہ ثابت کر دیا ۔۔۔ اس قتل یا خود کشی کی پوری سٹوری میں ۔۔۔۔ کوہسار کے جس کردار نے ایک بے وفا کیلئے وفائوں کی انتہا کر دی وہ ۔۔۔۔ ہارون کی اعلیٰ تعلیم یافتہ اہلیہ شمائلہ بی بی ۔۔۔ تھی، اس نے عوام علاقہ، اس ہاٹ انٹر نیشنل سٹوری کے طلبگار نشریاتی اینکرز اور پرنٹ میڈیا کے سامنے حارحانہ انداز میں عقلی دلائل سے اپنے شوہر اور سسر کا دفاع کیا ۔۔۔ اگر یہ شمائلہ بی بی نہ ہوتی تو شاید ۔۔۔ ماسٹر شوکت اور اس کا بیٹا ہارون بھی اس وقت ماریہ عباسی کے پاس پہنچ چکے ہوتے، اس واقعہ نے اہلیان دیول اور اوسیا کو دو متوازی کناروں پر لا کھڑا کر دیا، چیئر مین اعجاز عباسی نے اپنی تمام صلاحیتیں مجتمع کر کے اپنی یو سی میں ہونے والے واقعہ کی تفصیلات حاصل کر کے مصالحت کی کوششیں کیں، اس واقعہ نے ۔۔۔ یو سی بیروٹ ۔۔۔۔ کے بعد یو سی دیول کو بھی لرزایا کہ ۔۔۔ تمام خرابیوں کی جڑ موبائل اور کسی مرد کے بغیر خواتین کا بازاروں میں گھومنا پھرنا ہے ۔۔۔ اور یہ کہ ۔۔۔۔ جدید تعلیم کے ادارے وہ کچھ نہیں ڈیلیور کر رہے جس کی اہلیان کوہسار کو ضرورت ہے ۔۔۔۔ یہ بات بھی سامنے آئی کہ اہلیان اوسیا بہر حال اساتذہ ہیں اور اہلیان دیول پر اپنی علمی فضیلت کی بدولت فائق ہیں (2016 میں بیروٹ خورد کی سمیعہ بی بی اور گلیات کی سٹوڈنٹ عنبرین کو بھی جلایا گیا ۔۔۔
سال 2016 گلیات، یو سی بیروٹ اور پنجاب کی ملحقہ آخری شمالی یونین کونسل دیول میں خواتین کیلئے اچھا نہیں رہا ۔۔۔۔ دیول کے غریب ماں باپ کی سب سے بڑی بیٹی ماریہ عباسی ۔۔۔۔ جن تاریک راہوں میں ماری گئیں ۔۔۔۔ ایسی ہی تاریک راہوں کے تاریک قاتلوں نے بیروٹ خورد کی ایک نوخیز اور نوبیاہتا یتیم دلہن ۔۔۔۔ سمیعہ بی بی ۔۔۔۔ کو بھی پھانسی دے کر خود کشی کا ڈھونگ رچایا ۔۔۔۔ مگر ۔۔۔۔ جب قاتلوں کا پیچھا کرنے والا کوئی نہ ہو، پیچھا کر کے بھی وارثوں کو حاصل وصول کچھ نظر نہ آئے ۔۔۔۔ تو قلم چاہے کتنا لکھے وہاں سفید ریش ناخواندہ معمر جرگوئیوں کے فیصلوں کو نہ ٓصرف قبولا جاتا ہے بلکہ ۔۔۔۔ دیت کے چند سکے ۔۔۔ شکریہ کے ساتھ وسول بھی کئے جاتے ہیں ۔۔۔۔ بیچاری سمیعہ کا لہو بھی اسی طرح گلیات کے ایک جرگہ نے نیلام کیا اور وارث ۔۔۔۔ 18 لاکھ ہاتھوں میں لے کر شاداں و فرحاں گھروں کو لوٹ گئے ۔۔۔۔ سمیعہ کی روح تڑپی تو ہو گی جنت الفردوس میں، مگر اس سے کیا فرق پڑتا ہے ۔۔۔۔؟
عمبرین بی بی گلیات کے حسن فطرت کے سحر میں ڈوبے ایک گائوں مکول کے ہی بوڑھے اور غریب والدین کی بیٹی تھی ۔۔۔۔ قصور اتنا بڑا نہیں تھا کہ اس سے حق زندگی چھین لیا جاتا ۔۔۔۔ مگر ۔۔۔۔ خونخوار سرداروں کے ایک ان پڑھ بوڑھے جرگہ نے سب قانونی دیواروں کو روند دیا ۔۔۔۔ اس کی ماں کو ایسی دھمکی ملی کہ ۔۔۔۔ عمبرین کو دنیا میں لانے والی ۔۔۔۔ اس کی ماں کو بھی اس کے دردناک انجام پر زبان بند رکھنا پڑی، اس نو عمر آٹھویں جماعت کی طالبہ عنبرین کو پہلے کسی چیڑھ کے ساتھ لٹکایا گیا اور پھر اسے سوزوکی کی پچھلی سیٹ سے باندھ کر آگ لگا دی گئی ۔۔۔۔۔ جو چپ رہے گی زبان خنجر، لہو پکارے گا آستیں کا ۔۔۔۔ اب سیشن کورٹ ایبٹ آباد میں ملزم کو مجرم اور مجرم کو ملزم ثابت کرنے والے دونوں وکیل ایڑھی چوٹی کا زور لگانے میں مصروف ہیں ۔۔۔۔ اہم بات یہ ہے کہ 2016 میں موت کے گھاٹ اترنے والی ماریہ، سمیعہ اور عمبرین کے ملزمان کی تعداد ایک سے زیادہ ہے اور اس کے ساتھ بہت سی دیکھی ان دیکھی کہانیاں بھی جڑی ہوئی ہیں اور پس منظر میں بھی پہت کچھ رواں دواں ہے ۔۔۔۔ ایک مقتول لڑکے سمیت ان دونوں لڑکیوں کا تعلق کوہ موشپوری کے مغرب کی جنت الفردوس کے تھانہ ڈونگا گلی سے ہے جہاں سال میں دوچار قتل تو معمول کی بات ہے۔
اسی سال گلیات میں ہی ایک تیل فروش اور ایک دوسرے دکاندار نوجوان کو بھی ہلاک کر دیا گیا، ان نوجوانوں کے قتل کا پیچھا کرنے کیلئے مری ایبٹ آباد روڈ بلاک کی گئی، ضلعی انتظامیہ سے قاتلوں کی گرفتاری کا وعدہ لیا گیا اور ایک ہفتے کے اندر دونوں کے قاتل ڈونگا گلی پولیس نے گرفتار کر کے عدالت میں پیش کر دئے جو اب سلاخوں کے پیچھے ہیں۔
اس سال حادثات کی تعداد بھی کافی تشویشناک رہی، سال کے اوائل میں ٹھنڈیانی کے برف زاروں میں ایک جیپ نشیب کی طرف لڑھک گئی تاہم جانی نقصان نہیں ہوا، بیروٹ کلاں میں چنجل کے مقام پر بھی ایک جیپ نیچے جا لگی، ڈرائیور کو معمولی چوٹیں آئیں، گھوڑا گلی میں بیروٹ کا ایک ٹرک ایک دکان اور ایک کیری ڈبے کو کچلتا ہوا سینکڑوں فٹ نیچے جا گرا تاہم خوش قسمتی سے ڈرائیور نے چھلانگ لگا کر جان بچائی، سال کے آخری ماہ دسمبر کے آخری دنوں کی ایک صبح یو سی بیروٹ کی وی سی باسیاں کے دو غیر شادی شدہ نوجوان ۔۔۔۔ توصیف کبیر اور مسلم اتفاق ۔۔۔ دھیر کوٹ آزاد کشمیر میں اپنا ہی ٹرک چلاتے ہوئے حادثہ میں جاں بحق ہو گئے، دونوں کی نماز جنازہ اکٹھی ادا کی گئی اور ایک دوسرے کے پہلو میں ایک ہی قبرستان میں سپرد خاک کئے گئے ۔۔۔۔ ان کی اس حادثاتی موت پر رونے والی نوحہ گر خواتین نے ۔۔۔۔ ہزاروں لوگوں کو بھی رلا دیا۔۔۔۔۔ اس سال برسوں سے ہائر سیکندری سکول بیروٹ کی زخموں سے چور نوحہ خواں عمارت کے ساتھ ۔۔۔۔ راقم کے پڑوسی مرحوم نثار عباسی کی اولاد کی بے پرواہی کا شکار پہاڑوں کی شہزادی ۔۔۔۔ 3725بس ۔۔۔۔ کو ایک بار پھر دلہن بنا کر اپر دیول کوہالہ روڈ پر چلا دیا گیا، آج 10جنوری 2017 کو بیروٹ اور راولپنڈی کے اڈہ منیجروں نے بیروٹ روٹ پر چلنے والی گاڑیوں کا شیڈول جاری کیا ہے جس میں 3725 بس کا پرانا ٹائم بحال کیا گیا ہے جس کے مطابق ۔۔۔۔ یہ بس صبح سات بجکر بیس منٹ پر اکھوڑاں بازار بیروٹ سے پنڈی روانہ ہو گی، مجموعی طور پر اس روٹ پر 15 بسیں اور کوسٹرز چلیں گی۔ دریں اثنا 2016 کے رمضان المبارک میں بیروٹ خورد کی 7 ویگنوں پر مشتمل ویگن سروس نے اپنی تاریخ کی پہلی ہڑتال بھی کی، لوگوں کے عدم تعاون کے باعث ان ہڑتالی ٹرانسپورٹروں کو تین دن کے بعد خود ہی ختم کرنا پڑی ۔۔۔۔ بیروٹ خورد کی شاہرائیں اور موٹر ویز پر دل خان مرحوم کی کھٹارہ اور موت کے کھٹلے جیپوں کے علاوہ کسی دوسری گاڑی کا گزر نہ ہو سکا، اس سال تمام تعمیراتی ٹھیکے نون لیگ کے فیورٹ فضل رحیم عباسی کے بجائے وی بیروٹ کلاں کے وائس چیئرمین عتیق عباسی کو دئیے گئے جس کی وجہ سے ۔۔۔۔ فضل رحیم عباسی کے اپنے رانمائوں کے بڑے بڑے مبارکبادی اشتہارات پورا سال کسی میڈیا میں نظر نہیں آئے۔
اس سال سوار گلی بوئی روڈ پر واقع لوگوں نے کافی فکری، تہذیبی اور مادی ترقی کی، بیروٹ خورد کی وی سیز میں فوٹو کاپی مشینوں، فوٹو سٹویوز، سٹیشنری کی دکانوں اور دیگر اشیائے صرف اور روزانہ تازہ سبزیوں کی مارکیٹیں کھلنے سے بیروٹ کلاں کی جانب آنے والے تمام راستے ویران ہو گئے ہیں، ممبر تحصیل کونسل قاضی سجاول خان اور چیئرمین وی سی کہو غربی جان محمد عباسی نے اس علاقے کے لوگوں کے بلند سے بلند تر ہوتے معیار زندگی اور بوریوں میں ہونے والی آمدنی کو دیکھتے ہوئے ۔۔۔۔ کہو شرقی کے لفٹ آپریٹر کو بھی مقناطیس لگا کر لوگوں کی جیبوں سے پیسے نکالنے کا لائسنس دے رکھا ہے جس پر اہلیان کہو غربی سراپا احتجاج ہیں مگر دونوں عوامی رہنمائوں کے کانوں پر جوئوں نے بھی رینگنے سے انکار کر دیا ہے، واضح رہے کہ یو سی بیروٹ میں اس وقت چار لفٹیں چل رہی ہیں دو کہو غربی، ایک ہوتریڑی اور ایک نے باسیاں ہوترول کے درمیان 2016 میں ہی کام شروع کیا ہے، اس میں بھی نومبر میں خرابی پیدا ہونے سے لوگ چھ گھنٹوں تک کنیر کے اوپر فحا میں ٹنگے رہے جبکہ کہو غربی کے کراچی میں مقیم امتیاز عباسی کی مجوزہ لفٹ پر این او سی نہ لینے پر کے پی کے حکومت نے کام بند کروا دیا ہے ۔۔۔۔ شاید اہلیان کہو غربی کے یہ خواب کبھی پائیہ تکمیل کو پہنچ سکیں۔

روزنامہ نوائے وقت اسلام آباد ۔۔۔۔۔۔30 جنوری 2017
  اس سال اہلیان سرکل بکوٹ کیلئے آمدن کا ایک نیا ذریعہ بھی متعارف ہوا، چھتر میں نیلم جہلم پروجیکٹ کے آخری مراحل میں انجینئرز کیلئے رہائش کا مسئلہ پیدا ہوا، مولیا، بکوٹ اور یو سی بیروٹ کی وی سی باسیاں میں ان کی رہائشی سہولیات حاصل کی گئیں، دو بیڈ، کچن اور باتھ پر مشتمل گھر پندرہ ہزار روپے ماہانہ پر حاصل کئے گئے جن میں واپڈا انجینئرز ابھی تک رہائش پذیر ہیں، اسی سال سرکل بکوٹ اور کوہ مری کےدرجنوں الیکٹریکل انجینئرز کو بھی ہینڈ سم سیلری پیکیج پر اسی پروجیکٹ پر ملازمتیں بھی ملیں، مولیا میں ایم این اے ڈاکٹر ازہر جدون نے وزیر اعلیٰ کی عدم آمد پر پہلے پن بجلی منصوبوں کا بھی تاریخ سرکل بکوٹ میں افتتاح کیا، اس کی ڈسری بیوشن مولیا کے سماجی کارکن آفتاب عباسی کی سربراہی میں کمیٹی نے انجام دی اور اب ۔۔۔۔ لوڈ شیڈنگ کے بغیر اہلیان مولیا تین سو روپے ماہوار میں بغیر میٹر کے بجلی فل وولٹیج کے ساتھ انجوائے کر رہے ہیں ۔۔۔۔ یہی ہیں باکمال لوگ اور ان کی لاجواب سروس ۔۔۔ (ختم شد)

No comments:

Post a Comment